میخائل شولوخوف روس کے صاحب طرز اور شہرہ آفاق ادیب تھے۔ وہ ٢٤ مئی ١٩٠٥ء کو ویزلنسکایاروف میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے معمولی تعلیم حاصل کی۔ وہ کسی کالج سے سند یافتہ نہیں تھے۔ جب وہ محض تیرہ برس کے تھے تو انھوں نے روسی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ ١٩٢٢ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور ماسکو میں محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنے لگے۔ اس دوران سیاست اور لکھنے لکھانے کی طرف راغب ہوئے۔ انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں ١٩٤١ ء میں سٹالن پرائز، ١٩٦٠ء میں آرڈر آف دی فادر لینڈ لینن پرائز اور ١٩٦٧ء میں ہیرو آف سوشلسٹ لیبر کا ایوارڈ ملا۔ انھیں آرڈر آف لینن سے آٹھ بار نوازا گیا۔ ان کے ناول ’’اورڈان بہتا رہا‘‘ کو عالمگیر شہرت نصیب ہوئی۔ یہ معرکۃ الآرا ناول انھوں نے چودہ برسوں میں مکمل کیا تھا۔ یہ ایک رزمیہ ناول تھا جس میں انسیویں صدی کے روسی معاشرے کی حقیقی تصویر کشی کی گئی تھی۔ اسی ناول کی بنا پر انھیں ١٩٦٥ء میں نوبل انعام کا حق دار گردانا گیا۔ ان کے دیگر ناولوں میں ’’دی سیڈز آف ٹومارو‘‘ کو بھی خاصی پذیرائی ملی۔ ان کی کہانیوں اور ناولوں کا دنیا کی سب بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ذیل کی تاثر انگیز طویل کہانی انھوں نے ١٩٥٧ء میں تحریر کی۔ اس پر فلم بھی بنائی گئی جسے بین الاقوامی فلمی میلے میں اول انعام عطا کیا گیا۔ میخائل شولوخوف نے ٢١فروی ١٩٨٤ء کو انتقال کیا۔